Popular Posts

Saturday, February 3, 2018

ساغر صدیقی کی پریم کہانی

ساغر صدیقی کہ والد نے ساغر کی پسند کو یہ کہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ ہم خاندانی لوگ ھیں کسی تندور والے کی بیٹی کو اپنی بہو نہیں بنا سکتے غصہ میں اس لڑکی کہ گھر والوں نے اسکی شادی پنجاب کہ ایک ضلع حافظ آباد میں کردی تھی جو کامیاب نہ ہوئی لیکن ساغر اپنے گھر کی تمام آسائش و آرام چھؤڑ چھاڑ کر داتا کی نگری رہنے لگا جب اسکی محبوبہ کو پتا چلا تو وہ داتا صاحب آ گئی کافی تلاش کہ بعد آ خر تاش کھیلتے ھوئے ایک نشئیوں کہ جھڑمٹ میں ساغر مل ہی گیا اس نے ساغر کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا اور یہ بھی بتایا کہ مجھے میرے خاونذ نے ھاتھ تک نہیں لگایا اور ہماری داستان محبت سن کر مجھے طلاق دیدی ھے اب اگر تم چاہو تو مجھے اپنا لو ساغر نے کہا بندہ پرور کوئی خیرات نہیں ھم وفاؤں کا صلہ مانگتے ھیں

Friday, February 2, 2018

جاوید آفریدی کی اسلام آباد دھرنا میں اعلانات و احتجاج

چئیرمین پشاور زلمی جاوید افریدی کی اسلام آباد میں نقیب اللّٰہ محسود کے قتل کیخلاف احتجاجی دھرنے میں شرکت کی .جاوید افریدی نے نقیب للّٰہ محسود کے بچوں کیلئے پانج لاکھ روپے کے امداد کا اعلان کیا اور ساتھ میں اس کیمپ کے انتظامیہ کیلئے بھی پانج لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا.

صحابہ اکرام نے یا محمد ﷺ کا نعرہ کب اور کیوں لگایا

جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے لڑی جانے جنگ میں جب کافر بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگا رہے تھے مسلمان بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگا رہے تھے تو اس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے لکھا کہہ کافر و مسلمان میں فرق ہی معلوم نہیں ہوتا اپنا کون ساہ ہے اور بیگانہ کونسا ہے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے لکھا جب وہ اللہ اکبر کا نعرہ لگائیں تو تم اس وقت یا محمد ﷺ کا نعرہ لگاؤ اس دن جو یا محمد یا رسول اللہ ﷺ کہتا تھا اسی کو مسلمان مانا جاتا تھا باقی سب کو قتل کر دیا جاتا تھا جنگِ یمامہ میں صحابہؓ کا یہ نعرہ حق و باطل کے درمیان آج بھی پہچان ہے۔۔۔۔۔۔یا محمدﷺ یا محمدﷺ آج بھی حق پرستوں اور صحابہؓ کے حقیقی پیروکاروں کی یہی نمایاں علامت ہے #جنگ #یمامہ #کیوں #لڑی #گئی ،،،،،؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد عرب میں جو نبوت کے دعویدار سامنے آئے ان میں سب سے طاقتور مسیلمہ کذاب تھا۔ جب مسلمان دیگر نبوت کے دعویدار کے خاتمے میں مصروف تھے اس دوران مسیلمہ اپنا دعویٰ نبوت عام کرنے میں مصروف رہا اور اس نے اتنی طاقت حاصل کر لی کہ اس کا چالیس ہزار کا لشکر یمامہ کی وادیوں میں پھیل گیا۔ ابو بکر صدیق نے ان کے مقابلے لیے عکرمہ بن ابی جہل کو یمامہ کی طرف روانہ کیا اور عکرمہ کی مدد کے لیے شرجیل کو بھی روانہ کیا۔ شرجیل کے پہنچنے سے قبل ہی عکرمہ نے لڑائی کا آغاز کر دیا لیکن انہیں شکست ہوئی۔ اس عرصے میں شرجیل بھی مدد کو آ پہنچے لیکن دشمن کی قوت بہت بڑھ چکی تھی۔ مسیلمہ کی نبوت کی تائید بنی حنیفہ نے بھی کی اس وقت ان کا بہت زور تھا۔ شرجیل نے بھی پہنچتے ہی دشمن سے مقابلہ شروع کر دیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس عرصے میں حضرت خالد بن ولید دیگر مرتدین سے نمٹ چکے تھے۔ حضرت ابو بکر نے انہیں عکرمہ اور شرجیل کی مدد کے لیے یمامہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔ خالد بن ولید اپنا لشکر لے کر یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مسیلمہ بھی خالد کی روانگی کی اطلاع سن کر مقابلے کی تیاریوں میں مصروف ہوا اور یمامہ سے باہر صف آرائی کی۔ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد تیرہ ہزار تھی۔ [1]۔ فریقین میں نہایت سخت مقابلہ ہوا۔ پہلا مقابلہ بنو حنیفہ سے ہوا۔ اسلامی لشکر نے اس دلیری سے مقابلہ کیا کہ بنو حنیفہ بد حواس ہو کر بھاگ نکلے اور مسیلمہ کے باقی آدمی ایک ایک کر کے خالد کی فوجوں کا نشانہ بنتے رہے۔ جب مسیلمہ نے لڑائی کی یہ صورتحال دیکھی تو وہ اپنے فوجیوں کے ساتھ جان بچا کر بھاگ نکلا اور میدان جنگ سے کچھ دور ایک باغ میں پناہ لی لیکن مسلمانوں کو تو اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنا تھا اس لیے خالد بن ولید نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔ باغ کی دیوار اتنی اونچی تھی کے اس کو کوئی بھی پار نہیں کر سکتا تھا۔ اس وقت ایک صحابی حضرت زید بن قیس نے حضرت خالد بن ولید کو فرمایا میں یہ دیوار پار کر کے تمہارے لیے دروازے کو کھول دوں گا گر تم میرے لیے ایک اونچی سیڑھی بنا دو حضرت خالد بن ولید راضی ہو گئے۔ اگلے دن حضرت زید بن قیس سیڑھی کے ساتھ باغ میں اتر گئے۔ تب مسیلمہ کذاب نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ اس کو قتل کر دو۔ تب اس کے فوجیوں نے حضرت زید بن قیس کے ساتھ لڑائی شروع کردی۔ لڑائی میں حضرت زید بن قیس کا کندھا کٹ گیا۔ پھر بھی انہوں نے دروازے کو کھول دیا۔ ادھر مسلمان صف بندی کرچکے تھے۔ مسلمان یا محمدصلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نعرہ لگاتے ہوئے اندر داخل ہونا شروع ہوگئے اور ایک دفعہ پھر گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ اچانک حضرت خالد بن ولید نیزہ لے کر مسیلمہ کو پکارنے لگے،یا عدو الله!اور مسیلمہ پر پھینک دیا، مگر اس کے محافظوں نے ڈھال بن کر اس کو بچالیا۔ اس وقت اس کے محافظ غیر حتمی طور پر اسے چھوڑ کے چلے گئے۔ پھر اسے حضرت حمزہ کے قاتل وحشی (جو مسلمان ہوچکے تھے) نے ایسا نیزہ مارا کہ مسیلمہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اس طرح اس نے حضرت حمزہ کو شہید کرنے کا کفارہ ادا کیا۔ اس کے لشکر کے نصف آدمی مارے گئے۔ تقریباً یمامہ کے ہر گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد خالد بن ولید نے اہل یمامہ سے صلح کرلی۔ یہ جنگ جنگ یمامہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ مسیلمہ کذاب اور دیگر مرتد/مرتدین کے خاتمے سے اسلامی سلطنت کے لیے ایک بہت بڑا خطرے کا خاتمہ ہو گیا جس میں اہم کردار حضرت ابوبکر کی دینی و سیاسی بصیرت کا تھا۔ اسلام کو انتشار سے بچانے کے لیے یہ آپ کا نہایت اہم کارنامہ ہے۔

Thursday, February 1, 2018

جھیل سیف الملوک میں سیرو تفریح کے لیے کب جائیں

جھیل سیف الملوک وادای کاغان کا سب سے چمکدار موتی اور اس کے ماتھے کا جھومر جھیل سیف الملوک ناران کے قصبے سے بذریعہ جیپ یا پیدل اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت جھیل ہے۔ ملکہ پربت، اور دوسرے پہاڑوں کا عکس اس میں پڑتا ہے۔ سال کے کچھ مہینے اس کی سطح برف سے جمی رہتی ہے۔ جھیل سیف الملوک کے حوالے سے کئی کہانیاں مشہور ہیں،ان میں سب سے مشہور قصہ سیف نامی شہزادے حسین پری سے اس جھیل پر ملاق ات کا ہے۔ سطح سمندر سے دس ہزار پانچ سو اٹھہتر فٹ بلندی پر واقع جھیل سیف الملک جانے کیلئے مانسہرہ سے ہوتے ہوئے پہلے بالا کوٹ اور پھر بالاکوٹ سے کاغان ویلی میں داخل ہوتے ہوئے ناران پہنچا جاتا ہے۔ ناران سے جھیل سیف الملوک تک کا سفر14 کلومیٹر ہے جو خاص قسم کی جیپ گھوڑوں اورکچھ دیر تک پیدل چل کر طے کیا جاتا ہے۔ جھیل سیف الملوک پر پہنچتے ہی زبان سے بے اختیارنکلتا ہے سبحان اللہ۔ جھیل سیف الملوک کی سیر و تفریحی کا اصل مزاہ جون جولائی میں آتا ہے اگست کے آخر تک جھیل کی رونقیں مانند پڑھنی شروع ہو جاتی ہیں اکثر سیاح اگست کے آخر میں آنے والے مایوس نظر آتے ہیں اور نومبر دسمبر میں جھیل مکمل برف سے ڈھک جاتی ہے اور پھر وہاں کوئی نہیں جاتا یوں جھیل اپنے گزرے ہوئے دنوں کی تنہائی میں واپس لوٹ جاتی ہے جون جولائی میں بھی جھیل کا پانی اتنا ٹھنڈا ہے کہ اس میں زیادہ دیر تک کھڑا یا پاؤں ڈال کر بیٹھا نہیں جاسکتا، پہاڑوں پر برف دیکھ اس تک پہنچنے کا خیال آتا ہے۔ کچھ لوگ ہمت کرکے برف تک پہنچے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ان یادگار لمحوں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیتے ہیں،قریبی پہاڑ پر چڑھ کر جھیل کی طرف دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اللہ نے جنت زمین پر اتار دی۔ جھیل کے اردگرد بہنے والے بہت سے چشمے دیکھ دل مچل اٹھتا ہے کہ ان کا ٹھنڈا شفاف پانی پینے کے لیے بوتلوں میں محفوظ کرلیں جھیل سیف الملوک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی گہرائی ابھی تک ناپی نہیں جاسکی ہے۔ جھیل سیف الملوک پر مقامی لوگ پیسے لے کر جھیل سے منسلک شہزادے اور پریوں کی کہانیاں بیان کرتے ہیں، جو ظاہر ہے افسانوی ہوتی ہیں

والدین کی عزت بیٹی کے ہاتھ میں ہوتی ہے

ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺟﻮﮞ ﮨﯽ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﮐﺌﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ۔ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﻣﺤﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺎ۔ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﺒﮭﺘﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯ ﺟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﮔﮭﺮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻭﮦ ﻭﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ۔ ﮐﺌﯽ ﻣﺎﮦ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﯾﮏ ﭘﮭﭩﮯ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺮﯾﺾ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﮐﭙﮍﺍ ﮨﭩﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺯﺍﺭﻭ ﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭﺋﮯ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺳﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ ﭘﺎﺋﯽ۔ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺫﻟﺖ ﮐﯽ ﺟﺲ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺟﮭﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﮐﻮ ﺟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻧﻘﺺ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺁﺧﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺩﮬﮑﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ۔ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﯾﮏ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﻧﮯ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺠﻤﮧ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺳﻨﺎﯾﺎ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺩﻥ ﺍﯾﺴﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻧﯿﮟ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺯﯾﺎﺩ ﺗﺮ ﺳﭩﻮﮈﻧﭧ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﻟﮍﮐﯽ ﯾﺎ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺭﭦ ﻣﯿﺮﺝ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ . ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻥ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﺩﮐﮫ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ،ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﮧ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﮯ ﻃﻌﻨﮯ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻥ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﮐﯽ،ﮐﮭﻼﯾﺎ ﭘﻼﯾﺎ،ﺍﭼﮭﮯ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎﯾﺎ، ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﺎ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﮐﺜﺮ ﮔﮭﺮﺍﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻣﮧ ﺍﻓﻮﺭﮈ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺴﯽ ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﯾﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ، ﯾﺎ ﮐﻼﺱ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮﺍﭘﻨﮯ ﺑﻮﺍﺋﮯ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﭘﺎﺭﮐﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ۔ اور کسی حد تک ہم معاشرے میں اس بگاڑ کا قصوروار صرف مرد کو ہی نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ جگہ وہی بنتی ہے جہاں موقع دیا جائے ﺑﺲ ﯾﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻋﻘﻞ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﺍﻧﯿﮧ ﮐﺘﻨﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﻣﺮﺩ ﺻﺮﻑ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ اور آخت میں دونوں کے ہاتھ سوائے بدنامی اور زلت کہ کچھ نہیں آتا ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮﺍﺳﻼﻡ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ، ﺑﮯﺷﮏ ﮨﺮ ﻋﺎﻗﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻟﻎ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺐ ﺟﺐ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﺩﮐﮫ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺎ ﯾﮩﯽ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭ ﺩﺭ ﮐﯽ ﭨﮭﻮﮐﺮﯾﮟ ﮨﯽ ﮐﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﺩ ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﮈﺭﺍﻣﮯ ﺳﮯ ﺍﮐﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺎﮒ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﮐﮯﮔﮭﺮ ﺑﺴﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺒﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﺐ ﺻﺒﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻭﮨﺎﮞ ﺻﺒﺮ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺻﺒﺮ ﮐﺎ ﭘﮭﻞ ﺩﮮ ﮔﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﺿﺮﻭﺭ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ۔۔

پاک فوج ہماری محافظ

کیا کوئی شخص یہ دعوی کر سکتا ہے کہ پاک فوج ہر غلطی اور خامی سے پاک ہے؟ ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ! تب پاک فوج کے خلاف بات کرنے پر واویلا کیوں؟ کیونکہ یہ اس وقت اسلام اور پاکستان دشمنوں کی شدید ترین ضرورت ہے! دنیا کی سب سے بڑی پراکسی جنگ میں پاک فوج کی بےمثال فتح کے بعد ان کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا کہ وہ پاکستان کی بیک وقت افغانستان اور انڈیا سے باقاعدہ جنگ کروا دیں۔ لیکن ایسی جنگ سے پہلے وہ دو کام کرینگے۔ پہلا پاکستان کا معاشی دیوالیہ نکالنا۔ یہ خدمت زرداری اور نواز شریف بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ دوسرا پاک فوج کی عوامی حمایت کو ممکن حد تک کم کرنا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دلوں میں پاک فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنا۔ یہ خدمت سرانجام دینے ولے تین طرح کے لوگ ہیں۔ پہلے وہ ملعون سیکولر لبرلز جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر دن رات پاک فوج کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ ملالہ، عاصمہ جہانگیر اور بھینسا وغیرہ۔ ان لوگوں کو لگتا ہے کہ پاک فوج کی بدولت پاکستان کا رشتہ اسلام سے جڑا ہوا ہے ۔ دوسرے وہ مخصوص ذہنیت رکھنے والے ملا ہیں جو منبروں اور سوشل میڈیا پر یہ خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ ان میں کلعدم دہشت گرد جماعتوں کے علاوہ جے یو آئی اور جماعت اسلامی بھی پیش پیش ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ ان کو طاقت حاصل کرنے سے پاک فوج نے روک رکھا ہے۔ پاک فوج سے نفرت کے معاملے میں ملا اور ملحد ایک پیج پر ہیں ورنہ ان کا پیج دیکھ لیں :) تیسرے قوم پرست جماعتوں کے پیروکار۔ ان کو لگتا ہے کہ پاکستان کو قومیت کی بنیاد پر تقیسم کرنے میں پاک فوج سب سے بڑی رکاؤٹ ہے۔ ان میں اے این پی، اچکزئی، بی ایل اے اور جسقم جیسی جماعتیں شامل ہیں۔ اسی لیے انہی طبقات پر میں جواباً تنقید کرتا ہوں۔ کیا یہ سیدھی سادی بات سمجھنے کے لیے افلاطون کا دماغ چاہئے ؟ پاک فوج شائد پاکستان کا واحد گروہ ہے جس میں پاکستان کے ہر طبقے حتی کہ ہر خاندان کا فرد شامل ہے اس لیے اس میں وہ سب خامیاں ہونگی جو بطور قوم ہم میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن حیران کن طور پر ۔۔۔۔۔۔۔ پاک فوج کا عمل اور کردار واضح طور پر باقی پاکستانیوں سے اس قدر الگ اور شاندار ہے کہ ناقابل یقین لگتا ہے ۔۔۔۔۔ شائد یہ بھی کوئی معجزہ ہی ہے ! اس کے باؤجود اگر کوئی چھوٹی موٹی بات میرے علم میں آ بھی جائے تو میں پاک فوج پر تنقید کر کے وہ خدمت سرانجام نہیں دینا چاہتا جس کے لیے دشمن اربوں ڈالر صرف کر رہے ہیں !

موت کا المیہ

موت ہر عورت اور مرد پر لازماً آتی ہے - موت کا سب سے زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ موت کے بعد دوبارہ موجودہ دنیا میں واپسی ممکن نہیں - موت کے بعد انسان کو ابدی طور پر ایک نئی دنیا میں رہنا ہے - موت کے بعد صرف بھگتنا ہے، عمل کرنا نہیں ہے - انسان ایک بے حد حساس( sensitive ) مخلوق ہے - انسان کسی سختی کو برداشت نہیں کر پاتا، خواہ وہ کتنی چھوٹی کیوں نہ ہو - ہر عورت اور ہر مرد کو سب سے زیادہ یہ سوچنا چاہیے کہ موت کے بعد اگر اس کو سخت حالات میں رہنا پڑا تو وہ کیسے ان کو برداشت کرے گا - اگر انسان یہ سوچے تو اس کی زندگی میں ایک انقلاب پیدا ہو جائے - قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو وہ کہیں گے : الحمد للہ الذی آذھب عنا الحزن( 35:34)- یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کیا - تکلیف( pain ) کی زندگی انسان کے لیے سب سے زیادہ ناقابل برداشت زندگی ہے - اور تکلیف سے پاک زندگی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے - انسان اگر اس پہلو کو سوچے تو موت اس کا سب سے بڑا کنسرن بن جائے - وہ موت کے بارے میں اس سے زیادہ سوچے گا، جتنا وہ زندگی کے بارے میں سوچتا ہے - موت کا تصور آدمی کے لیے ماسٹر اسٹروک( masterstroke ) کی مانند ہے - ماسٹر اسٹروک کیرم بورڈ کی تمام گوٹوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیتا ہے - اسی طرح اگر آدمی کے اندر موت کا تصور زندہ ہو تو اس کے دماغ کے تمام گوشے ہل جائیں - اس کا سوچنا اور اس کا چاہنا، یک سر بدل جائے - اس کی زندگی میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جو اس کو ایک نیا انسان بنا دے گا - موت سے غفلت آدمی کو ایک بےخبر انسان بناتی ہے - اس کے برعکس، موت کی یاد آدمی کو آخری حد تک ایک باخبر اور باہوش انسان بنا دیتی ہے -